سنن نسائی حدیث ۲۵۶۸ - اللہ کے نام پر سوال کا جواب
اللہ کے نام پر مانگنے والے اور بھلائی کا بدلہ
سنن نسائی : ۲۵۶۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۵۶۸
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ ، وَمَنِ اسْتَجَارَ بِاللَّهِ فَأَجِيرُوهُ ، وَمَنْ آتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَادْعُوا لَهُ ، حَتَّى تَعْلَمُوا أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو شخص تم سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرے اسے دو، اور جو شخص اللہ کے نام پر تم سے امان چاہے تو امان دو، اور جو شخص تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے تو تم اسے اس کا بدلہ دو، اور اگر تم بدلہ نہ دے سکو تو اس کے لیے دعا کرو یہاں تک کہ تم جان لو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۵۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند صاف اور عملی ہدایات دیں۔ جو اللہ کی پناہ مانگے اسے پناہ دو۔ جو اللہ کے نام پر سوال کرے اسے دو۔ جو اللہ کے نام پر امان چاہے اسے امان دو۔ اور جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے، تم بھی اسے بدلہ دو۔ اگر بدلہ دینے کی طاقت نہ ہو تو اس کے لیے دعا کرو، یہاں تک کہ تم سمجھ لو کہ تم نے اس کا حق ادا کر دیا ہے۔ اس حدیث میں مسلمان کے اخلاق، وعدے، امان، مدد اور شکر گزاری کی تعلیم ہے۔ نیکی کا جواب نیکی سے دینا چاہیے، اور کم از کم دعا ضرور کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے نام پر پناہ مانگنے والے کو پناہ دینی چاہیے۔
- بھلائی کرنے والے کا بدلہ دینا اچھا اخلاق ہے۔
- بدلہ نہ دے سکیں تو دعا کرنی چاہیے۔
- امان اور وعدے میں سنجیدگی رکھنی چاہیے۔
