سنن نسائی حدیث ۲۵۷۲ - اصل مسکین کون ہے؟

اصل مسکین وہ ہے جو سوال سے بچتا ہے

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۵۷۲

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَاللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ ، إِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفُ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور ایک لقمہ یا دو لقمے (در در) گھماتے اور (گھر گھر) چکر لگواتے ہیں۔ بلکہ مسکین سوال سے بچنے والا ہے ۱؎اگر تم چاہو تو پڑھو «‏لا يسألون الناس إلحافا‏» ”وہ لوگوں سے گڑگڑا کر نہیں مانگتے“ (البقرہ: ۲۷۳)۔

سنن نسائی حدیث ۲۵۷۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکین کی پہچان سمجھائی۔ فرمایا کہ مسکین وہ نہیں جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے در در پھراتے رہیں۔ اصل مسکین وہ ہے جو سوال سے بچنے والا ہو۔ پھر آیت کا حصہ پڑھنے کی طرف رہنمائی فرمائی کہ وہ لوگوں سے گڑگڑا کر نہیں مانگتے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ضرورت مند اپنی ضرورت ظاہر نہیں کرتا۔ کچھ لوگ عزت نفس کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پہچاننا اور ان تک صدقہ پہنچانا اہم ہے۔ یہ حدیث صدقہ دینے والوں کو صرف مانگنے والوں تک محدود نہیں رکھتی، بلکہ خاموش ضرورت مندوں کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر مسکین کھل کر سوال نہیں کرتا۔
  • عزت نفس رکھنے والے ضرورت مندوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • صدقہ دیتے وقت خاموش محتاج کو بھی تلاش کرنا چاہیے۔
  • اصرار سے مانگنے سے بچنا بہتر رویہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں