سنن نسائی حدیث ۲۵۷۳ - سوال نہ کرنے والا مسکین
مسکین کی اصل پہچان اور خاموش حاجت
سنن نسائی : ۲۵۷۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۵۷۳
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ ، الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ " , قَالُوا : فَمَا الْمِسْكِينُ ؟ , قَالَ : " الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ ، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ ، وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلَ النَّاسَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جو اس طرح لوگوں کے پاس چکر لگائے کہ ایک لقمہ دو لقمے یا ایک کھجور دو کھجوریں اسے در در پھرائیں“، لوگوں نے پوچھا: پھر مسکین کون ہے؟ فرمایا: ”مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال و دولت نہ ہو کہ وہ اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے دوسروں کا محتاج نہ رہے، اور وہ محسوس بھی نہ ہو سکے کہ وہ مسکین ہے کہ اسے ضرورت مند سمجھ کر صدقہ دیا جائے۔ اور نہ ہی وہ لوگوں کے سامنے مانگنے کے لیے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہوتا ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۵۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں صحابہ نے پوچھا کہ پھر مسکین کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ اس کی ضرورت پوری ہو جائے، مگر لوگ اس کی حالت کو پہچان نہیں پاتے کہ اسے صدقہ دیں، اور وہ خود بھی لوگوں کے سامنے مانگنے کے لیے کھڑا نہیں ہوتا۔ یہ بات بہت اہم ہے، کیونکہ عام طور پر لوگ اسی کو محتاج سمجھتے ہیں جو بار بار مانگتا ہے۔ حدیث بتاتی ہے کہ اصل ضرورت کبھی خاموش بھی ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں تک مدد پہنچانا زیادہ توجہ چاہتا ہے۔ صدقہ میں سمجھ داری، نرمی اور لوگوں کی عزت کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اصل محتاج ہمیشہ سوال نہیں کرتا۔
- صدقہ دیتے وقت عزت دار غریبوں کا خیال رکھا جائے۔
- لوگوں کی حالت سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
- ضرورت مند کی عزت نفس کا احترام کرنا چاہیے۔
