سنن نسائی حدیث ۲۶۱۷ - اپنے صدقے میں آڑے نہ آؤ
صدقہ دے کر دوبارہ اس میں دخل نہ دو
سنن نسائی : ۲۶۱۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۱۷
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَرَآهَا تُبَاعُ ، فَأَرَادَ شِرَاءَهَا , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَعْرِضْ فِي صَدَقَتِكَ " .
عمر روایت:
´عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیا، پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے، تو انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے صدقے میں آڑے نہ آؤ“۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۱۷ کا خلاصہ
اس روایت میں عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیا۔ بعد میں انہوں نے دیکھا کہ وہی گھوڑا بیچا جا رہا ہے، تو اسے خریدنے کا ارادہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے صدقے میں آڑے نہ آؤ۔ یہ الفاظ بہت مختصر ہیں مگر مطلب صاف ہے۔ جب آدمی اللہ کے لیے کوئی چیز دے دے تو پھر اسے دوبارہ اپنے قبضے میں لانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اس حدیث میں نیت کو محفوظ رکھنے، صدقہ کو اللہ کے لیے چھوڑ دینے اور اپنے دیے ہوئے مال سے دل کا تعلق کم کرنے کی تربیت ہے۔ یہاں تفصیل کم ہے، اس لیے بات اسی حد تک رکھی جائے کہ صدقہ دینے کے بعد اسے خریدنے یا واپس لینے کی کوشش سے بچنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ دینے کے بعد اس میں دوبارہ دخل دینے سے بچنا چاہیے۔
- اللہ کی راہ میں دی ہوئی چیز کو واپس لینے کی خواہش درست نہیں۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو مختصر مگر واضح ہدایت دی۔
- صدقہ کے بعد دل کو اس مال سے الگ کرنا چاہیے۔
