سنن نسائی حدیث ۲۶۲ - تصویر، کتا اور جنبی کا گھر

فرشتے کس گھر میں داخل نہیں ہوتے؟

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۲

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قال : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، ح وَأَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ " .

علی روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر، کتا یا جنبی ہو“۔

سنن نسائی حدیث ۲۶۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر، کتا یا جنبی ہو۔ حدیث کا مرکزی پیغام گھر کی پاکیزگی اور ایسے امور سے بچنے کا ہے جو رحمت کے فرشتوں کی آمد میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ یہاں تین چیزوں کا ذکر آیا ہے: تصویر، کتا اور جنبی شخص۔ اس روایت کو سمجھتے وقت متن ہی تک رہنا چاہیے؛ حدیث نے گھر کے ماحول کے بارے میں ایک واضح تنبیہ دی ہے۔ جنابت کا ذکر اس لیے اہم ہے کہ انسان کو غسل اور طہارت میں سستی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ حدیث گھر کے دینی ماحول، صفائی اور پاکیزگی کے بارے میں سنجیدہ سوچ پیدا کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گھر کے ماحول کو دینی پاکیزگی کے مطابق رکھنا چاہیے۔
  • جنابت کے بعد غسل میں غیر ضروری تاخیر مناسب نہیں۔
  • تصویر اور کتے کے بارے میں حدیث میں واضح تنبیہ آئی ہے۔
  • رحمت کے فرشتوں کی آمد کے لیے گھر کو ناپسندیدہ چیزوں سے بچانا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں