صحیح مسلم حدیث ۵۶۳۶ - میں ہوں کہنے کا ادب

میں ہوں کہنے کی حدیث: اجازت میں واضح تعارف

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۳۶

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " ، فَقُلْتُ : أَنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَنَا " .

جابر بن عبداللہ روایت:

میں نے اذن مانگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون ہے؟“ میں نے کہا: میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو میں بھی ہوں۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۶۳۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع واضح تعارف ہے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں، میں۔ اس حدیث میں بات بہت مختصر ہے، مگر مقصد صاف ہے کہ اجازت مانگتے وقت جواب ایسا ہونا چاہیے جس سے آدمی کی پہچان ہو جائے۔ صرف میں ہوں کہنے سے اندر والے کو کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ اجازت میں اپنا نام بتانے کی حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ بات صاف، مختصر اور فائدہ مند ہو۔ یہ ادب گھر کے دروازے پر بھی ہے اور عام گفتگو میں بھی۔ جب کوئی پوچھے کہ کون ہے، تو بہتر ہے کہ آدمی اپنا نام یا معروف پہچان بتائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اجازت کے وقت اپنا نام بتانا زیادہ واضح ہے۔
  • جواب ایسا ہو جس سے سننے والے کو پہچان ہو جائے۔
  • مختصر مگر غیر واضح جواب سے بچنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں