صحیح مسلم حدیث ۵۶۳۵ - اجازت میں اپنا نام بتانا

اجازت مانگتے وقت اپنا نام بتانے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۳۵

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَوْتُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَذَا ؟ " ، قُلْتُ : أَنَا ، قَالَ : فَخَرَجَ ، وَهُوَ يَقُولُ : أَنَا أَنَا " .

جابر بن عبداللہ روایت:

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا میں نے پکارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون ہے؟“ میں نے کہا: میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے یہ کہتے ہوئے: ”میں تو میں بھی ہوں۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۶۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع اپنا نام بتانا ہے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پکارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: میں ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور فرما رہے تھے: میں تو میں بھی ہوں۔ اس حدیث میں اجازت مانگنے کا ایک آسان ادب بتایا گیا ہے۔ جب اندر سے پوچھا جائے کہ کون ہے تو صرف میں ہوں کہنا واضح جواب نہیں۔ سننے والے کو معلوم نہیں ہوتا کہ کون آیا ہے۔ اجازت مانگتے وقت اپنا نام بتانا یا ایسی پہچان بتانا چاہیے جس سے بات صاف ہو جائے۔ اس حدیث کا پیغام روزمرہ زندگی میں بھی بہت کام آتا ہے، جیسے دروازے، فون یا پیغام میں اپنی پہچان واضح کرنا۔ بات چھوٹی ہے مگر ادب بڑا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اجازت مانگتے وقت اپنی پہچان واضح کرنی چاہیے۔
  • صرف میں ہوں کہنا پوچھنے والے کے لیے کافی نہیں ہوتا۔
  • دروازے پر گفتگو میں صاف اور مفید جواب دینا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں