صحیح مسلم حدیث ۵۶۳۷ - غیر واضح جواب سے بچنا
اجازت میں غیر واضح جواب سے بچنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۶۳۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۳۷
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمْ كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ .
شعبہ روایت:
شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت ہے۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برا جانا میں ہوں کہنے کو (کیونکہ اس سے کوئی فائدہ نہیں پوچھنے والے کو، معلوم نہیں ہوتا کہ کون ہے یا تو اپنا نام بتائے یا لقب جو مشہور ہو بیان کرے)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع غیر واضح جواب سے بچنا ہے۔ یہ روایت اسی سند سے آئی ہے جس میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: میں ہوں۔ اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جواب کو ناپسند فرمایا۔ وجہ متن کے ساتھ سمجھ میں آتی ہے کہ صرف میں ہوں کہنے سے آنے والے کی پہچان واضح نہیں ہوتی۔ اجازت مانگنے کی حدیث کا یہ پہلو ہمیں بہت آسان ادب سکھاتا ہے: جب کوئی پوچھے کون ہے تو نام یا معروف پہچان بتائی جائے۔ اس میں تکلف نہیں، بلکہ صاف بات ہے۔ گھر، دفتر، فون یا پیغام میں بھی یہی سلیقہ مفید ہے کہ آدمی اپنی پہچان واضح کرے تاکہ سامنے والے کو آسانی ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غیر واضح جواب سے سننے والے کو فائدہ نہیں ہوتا۔
- اجازت مانگتے وقت نام یا پہچان بتانی چاہیے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف میں ہوں کہنے کو ناپسند فرمایا۔
