سنن نسائی حدیث ۲۶۶۱ - ذوالحلیفہ کی بطحاء مبارکہ

ذوالحلیفہ کی بابرکت بطحاء کا ذکر

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۶۱

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُوَيْدٍ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ وَهُوَ فِي الْمُعَرَّسِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ أُتِيَ فَقِيلَ لَهُ : إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں آیا گیا اور آپ ذوالحلیفہ کے پڑاؤ کی جگہ میں تھے اور کہا گیا کہ آپ بابرکت بطحاء میں ہیں۔

سنن نسائی حدیث ۲۶۶۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ذوالحلیفہ کے پڑاؤ کی جگہ میں تھے، تو آپ کے پاس آنے والا آیا اور کہا گیا کہ آپ بابرکت بطحاء میں ہیں۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، مگر اس میں ذوالحلیفہ، معرس، اور بطحاء مبارکہ کا ذکر آتا ہے۔ اس روایت کو حج کے سفر اور میقات ذوالحلیفہ کے باب میں سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسی مقام کا ذکر دوسری روایات میں مدینہ والوں کے میقات کے طور پر بھی آیا ہے۔ یہاں اصل خبر یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ کے بابرکت ہونے کی اطلاع دی گئی۔ اس متن سے آگے کوئی تفصیلی حکم بیان نہیں کیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ذوالحلیفہ کے مقام کو بابرکت بطحاء کہا گیا۔
  • حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ کا ذکر ہے۔
  • ذوالحلیفہ حج کے سفر سے متعلق ایک اہم مقام ہے۔
  • متن مختصر ہو تو اسی کے مطابق محتاط وضاحت کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں