سنن نسائی حدیث ۲۶۸۴ - بال جمائے ہوئے لبیک
تلبید کے ساتھ تلبیہ پڑھنے کا عمل
سنن نسائی : ۲۶۸۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۸۴
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بالوں کو جمائے ہوئے لبیک پکار رہے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۸۴ کا خلاصہ
یہ روایت بہت مختصر ہے، مگر حج کے ایک عملی منظر کو سامنے لاتی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا کہ آپ بالوں کو جمائے ہوئے تھے اور لبیک پکار رہے تھے۔ یہاں اہم الفاظ تلبیہ، احرام اور تلبید ہیں۔ اس حدیث میں کوئی لمبی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اس سے اتنا ہی سمجھنا چاہیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بالوں کی تلبید کے ساتھ احرام میں لبیک کہنا ثابت ہے۔ یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون سے بھی جڑی ہوئی ہے، جہاں سر کی تلبید اور ہدی کا ذکر آیا۔ عام فہم انداز میں کہا جائے تو یہ حج کے سفر میں نبی صلى الله عليه وسلم کے ایک عمل کی گواہی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابی نے نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو جیسا دیکھا ویسا نقل کیا۔
- تلبیہ احرام کے عمل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔
- بالوں کی تلبید کے ساتھ لبیک کہنا اس روایت میں ثابت ہے۔
- مختصر حدیث سے زائد دعویٰ نہیں نکالنا چاہیے۔
