سنن نسائی حدیث ۲۶۹۰ - سب سے عمدہ خوشبو
احرام کے وقت سب سے عمدہ خوشبو
سنن نسائی : ۲۶۹۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۹۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : بِأَيِّ شَيْءٍ طَيَّبْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : " بِأَطْيَبِ الطِّيبِ عِنْدَ حُرْمِهِ وَحِلِّهِ " .
عروہ روایت:
´عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا کہ` آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی خوشبو لگائی تھی؟ تو انہوں نے کہا: سب سے عمدہ خوشبو تھی جو آپ کے احرام باندھتے وقت اور احرام کھولتے وقت میں نے لگائی۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں عروہ رحمہ اللہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی خوشبو لگائی تھی؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ سب سے عمدہ خوشبو تھی، جو انہوں نے آپ کے احرام باندھتے وقت اور احرام کھولتے وقت لگائی۔ یہ روایت سوال و جواب کی شکل میں ہے، اس لیے عام قاری کے لیے بہت آسان ہے۔ مرکزی لفظ “اطیب الطیب” یعنی بہترین خوشبو ہے۔ اس سے حدیث کا موضوع احرام سے پہلے خوشبو، حل احرام کے وقت خوشبو اور نبی صلى الله عليه وسلم کے لیے عمدہ خوشبو کا استعمال بنتا ہے۔ اس روایت میں کسی اضافی حکم کی تفصیل نہیں، بلکہ خوشبو کی قسم کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا صاف جواب ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- علمی سوال مختصر ہو تو جواب بھی واضح مل سکتا ہے۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے خوشبو کی خوبی کو “سب سے عمدہ” کہہ کر بیان کیا۔
- احرام اور حل دونوں اوقات کا ذکر روایت میں آیا ہے۔
- حدیث میں اصل بات خوشبو کی نوعیت اور وقت ہے۔
