سنن نسائی حدیث ۲۷۴۵ - ہدی دو اور احرام پر قائم رہو
ہدی دینے والے کے لیے احرام پر رہنا
سنن نسائی : ۲۷۴۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۷۴۵
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ عَطَاءٌ , قَالَ جَابِرٌ : قَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ سِعَايَتِهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِمَا أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ ؟ قَالَ : بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَاهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ " قَالَ : وَأَهْدَى عَلِيٌّ لَهُ هَدْيًا .
جابر روایت:
علی رضی اللہ عنہ زکاۃ کی وصولی کا کام کر کے آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”علی! تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟“ انہوں نے کہا: جس چیز کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”ہدی دو اور احرام باندھے رہو جیسا کہ تم اس وقت باندھے ہو“، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ بھی اپنے لیے ہدی لے کر آئے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۲۷۴۵ کا خلاصہ
اس روایت میں علی رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے کہ وہ اپنے کام سے واپس آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ جس چیز کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہدی دو اور اسی طرح احرام باندھے رہو جیسے اس وقت ہو۔ جابر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا کہ علی رضی اللہ عنہ اپنے لیے ہدی لے کر آئے تھے۔ اس حدیث میں ہدی، احرام، حج قران اور تلبیہ کا باہمی تعلق صاف ہے۔ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی پیروی کرنا چاہے، اسے حکم معلوم کر کے عمل کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احرام کی حالت میں آدمی کو اپنے عمل کا حکم معلوم کرنا چاہیے۔
- ہدی ساتھ ہو تو احرام کھولنے میں جلدی نہیں کی جاتی۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی پیروی صحابہ کا محبوب طریقہ تھا۔
- حج کے مسائل میں نیت، تلبیہ اور ہدی کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔
