سنن نسائی حدیث ۲۷۵۹ - سواری کھڑی ہونے پر تلبیہ
سواری سیدھی کھڑی ہونے پر تلبیہ کہنا
سنن نسائی : ۲۷۵۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۷۵۹
أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ رَاحِلَتَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ يُهِلُّ حِينَ تَسْتَوِي بِهِ قَائِمَةً " .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہوتے دیکھا، پھر جب اونٹنی (آپ کو لے کر) پورے طور پر کھڑی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پکارا۔
سنن نسائی حدیث ۲۷۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہوتے دیکھا۔ پھر جب اونٹنی آپ کو لے کر پوری طرح کھڑی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا۔ یہ روایت تلبیہ کے وقت کو بہت واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔ یہاں تلبیہ کب شروع کریں، احرام کے بعد لبیک، اور ذوالحلیفہ سے تلبیہ جیسے سوالات کا تعلق بنتا ہے۔ حدیث میں نماز، بیداء یا دوسرے عمل کی تفصیل نہیں، بلکہ خاص طور پر سواری کے کھڑے ہونے کا وقت ذکر ہے۔ اس لیے اس روایت کا اصل فائدہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو صحابی نے اپنے دیکھے ہوئے انداز میں نقل کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل براہ راست دیکھا۔
- روایت میں سواری کے سیدھی کھڑی ہونے پر تلبیہ کا ذکر ہے۔
- تلبیہ کے وقت کو سمجھنے میں صحابہ کے مشاہدات اہم ہیں۔
- حدیث کے الفاظ کو اسی دائرے میں رکھ کر سمجھنا چاہیے۔
