سنن نسائی حدیث ۲۸۷ - حائضہ بیوی سے قربت

حائضہ بیوی سے قربت کی حد کیا ہے؟

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۸۷

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : كَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا حَاضَتْ ، " أَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا " .

عائشہ روایت:

ہم میں سے جب کوئی حائضہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حکم دیتے کہ تہبند باندھ لے، پھر آپ اس کے ساتھ لیٹ جاتے تھے۔

سنن نسائی حدیث ۲۸۷ کا خلاصہ

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ہم میں سے کوئی حائضہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حکم دیتے کہ وہ تہبند باندھ لے، پھر آپ اس کے ساتھ لیٹ جاتے تھے۔ یہ حدیث حیض میں بیوی کے ساتھ تعلق کے بارے میں سادہ اور واضح رہنمائی دیتی ہے۔ روایت میں تہبند باندھنے کا ذکر ہے، پھر ساتھ لیٹنے کا بیان ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حیض کے دنوں میں بیوی سے نفرت یا الگ رہنا نبوی طریقہ نہیں، بلکہ پاکیزہ حد کے ساتھ قربت رکھی جا سکتی ہے۔ یہ حدیث ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو حائضہ بیوی سے قربت، حیض میں تہبند، اور حیض کے دوران شوہر بیوی کے تعلقات کے بارے میں تلاش کرتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حیض میں تہبند باندھنا اس روایت میں بیان ہوا ہے۔
  • شوہر بیوی کے درمیان نرم تعلق حیض میں بھی باقی رہ سکتا ہے۔
  • حدود کا خیال رکھتے ہوئے ساتھ لیٹنے کا عمل حدیث میں آیا ہے۔
  • دین حیض کو نفرت یا دوری کا سبب نہیں بناتا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں