سنن نسائی حدیث ۲۸۶ - حیض میں تہبند باندھنا
حیض میں تہبند باندھ کر قربت کی حدیث
سنن نسائی : ۲۸۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۸۶
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا ، أَنْ تَشُدَّ إِزَارَهَا ثُمَّ يُبَاشِرُهَا " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ایک کو جب وہ حائضہ ہوتی حکم دیتے کہ وہ تہبند باندھ لے، پھر آپ اس کے ساتھ لیٹ جاتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۲۸۶ کا خلاصہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کو، جب وہ حائضہ ہوتی، حکم دیتے کہ وہ تہبند باندھ لے، پھر آپ اس کے ساتھ لیٹ جاتے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع حیض میں مباشرت کی حدود ہے۔ یہاں جماع کا ذکر نہیں، بلکہ تہبند باندھنے کے بعد ساتھ لیٹنے کا بیان ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حیض کی حالت میں بیوی سے مکمل دوری اختیار کرنا حدیث کا طریقہ نہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ حدود کا خیال رکھا جاتا تھا۔ حائضہ بیوی کے ساتھ سونا، حیض میں تہبند، اور حیض کے دوران قربت جیسے سوالات کے لیے یہ روایت بہت واضح ہے، کیونکہ اس میں عمل مختصر مگر صاف الفاظ میں بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیض میں تہبند باندھنے کا حکم اس روایت میں آیا ہے۔
- بیوی کے ساتھ قربت میں شرعی حد کا خیال رکھا گیا۔
- حیض کی وجہ سے بیوی کو مکمل طور پر دور کرنا ضروری نہیں۔
- حدود کے ساتھ نرم ازدواجی تعلق باقی رہ سکتا ہے۔
