سنن نسائی حدیث ۲۹۴۶ - حج و عمرہ میں تین چکروں کا رمل

حج یا عمرہ کے طواف میں رمل کا واضح طریقہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۴۶

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ " يَخُبُّ فِي طَوَافِهِ حِينَ يَقْدَمُ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ ثَلَاثًا ، وَيَمْشِي أَرْبَعًا ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ " .

نافع روایت:

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ میں آتے تو پہلے تین پھیروں میں کندھے ہلاتے ہوئے دوڑتے اور باقی چار پھیروں میں عام رفتار سے چلتے، اور کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔

سنن نسائی حدیث ۲۹۴۶ کا خلاصہ

اس روایت میں نافع رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل بیان کیا ہے۔ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما حج یا عمرہ کے لیے آتے تو طواف کے پہلے تین پھیروں میں کندھے ہلاتے ہوئے تیز چلتے، اور باقی چار پھیروں میں عام رفتار سے چلتے۔ پھر وہ فرماتے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ اس حدیث میں حج اور عمرہ دونوں کا ذکر ہے، اس لیے طواف میں رمل کو صرف ایک خاص موقع تک محدود انداز میں نہیں بتایا گیا، بلکہ آمد کے طواف کے عمل کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ رمل کی حدیث، عمرہ کا طواف، حج کا طواف اور سنت طواف جیسے تلاش کے الفاظ اسی مضمون سے جڑے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حج اور عمرہ میں طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کا ذکر ہے۔
  • باقی چار پھیروں میں عام رفتار اختیار کی گئی۔
  • ابن عمرؓ نے اپنا عمل نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت کیا۔
  • عبادت میں عمل کی ترتیب کو محفوظ رکھنا اہم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں