سنن نسائی حدیث ۳۰۵ - بچی اور بچے کے پیشاب کا فرق
بچی اور بچے کے پیشاب کا حکم
سنن نسائی : ۳۰۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۵
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ ، قال : حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ ، قال : حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ ، قال : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ وَيُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ " .
ابو سمح روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچی کا پیشاب دھویا جائے گا، اور بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا“ ۱؎۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو سمح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچی کا پیشاب دھویا جائے گا، اور بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا۔ یہ روایت بہت واضح انداز میں بچی اور بچے کے پیشاب کے حکم میں فرق بیان کرتی ہے۔ یہاں اصل موضوع کپڑے کی طہارت اور پیشاب کی صفائی ہے۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، مگر مسئلہ صاف انداز میں بیان ہو گیا ہے۔ اس لیے بچی کا پیشاب دھونا، بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکنا، اور بول الجاریہ بول الغلام جیسے سرچ الفاظ اس حدیث کے لیے اہم ہیں۔ وضاحت میں کوئی اضافی واقعہ شامل نہیں کیا گیا، صرف متن کی بات بیان کی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں بچی کے پیشاب کو دھونے کا حکم بیان ہوا ہے۔
- حدیث میں بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکنے کا ذکر آیا ہے۔
- طہارت کے معاملے میں روایت کے الفاظ کو الگ الگ سمجھنا چاہیے۔
