سنن نسائی حدیث ۳۰۷۴ - ابن مسعود کا مقام رمی بیان

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مطابق جمرہ عقبہ کا مقام رمی

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۷۴

أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ هُشَيْمٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ، ثُمَّ قَالَ : " هَا هُنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " .

عبدالرحمٰن بن یزید روایت:

میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے کنکریاں ماریں، پھر کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، یہی ہے اس ہستی کے کھڑے ہونے کی جگہ جس پر سورۃ البقرہ اتاری گئی۔

سنن نسائی حدیث ۳۰۷۴ کا خلاصہ

عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے کنکریاں ماریں۔ پھر انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ یہی اس ہستی کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جس پر سورۃ البقرہ اتاری گئی۔ اس حدیث کا اصل موضوع مقام رمی اور جمرہ عقبہ ہے۔ روایت میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ رمی کے عمل میں نبی صلى الله عليه وسلم کا طریقہ سامنے رکھا جائے۔ اس میں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ ایک عملی مشاہدہ اور صحابی کی گواہی ہے۔ رمی جمرہ کا طریقہ، وادی سے رمی اور سنت کے مطابق حج جیسے موضوعات کے لیے یہ حدیث بہت متعلق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے وادی کے اندر سے رمی کی۔
  • انہوں نے اس مقام کو نبی صلى الله عليه وسلم کے مقام رمی سے جوڑا۔
  • صحابی کا عمل نبی صلى الله عليه وسلم کی پیروی پر مبنی تھا۔
  • حج کے عمل میں جگہ اور طریقہ دونوں اہم سمجھے گئے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں