سنن نسائی حدیث ۳۰۸۸ - عفو سے قتال کے حکم تک

مکہ میں عفو اور مدینہ میں قتال کا حکم

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۸۸

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبِي ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، وَأَصْحَابًا لَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي عِزٍّ وَنَحْنُ مُشْرِكُونَ ، فَلَمَّا آمَنَّا صِرْنَا أَذِلَّةً فَقَالَ : " إِنِّي أُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوا ، فَلَمَّا حَوَّلَنَا اللَّهُ إِلَى الْمَدِينَةِ أَمَرَنَا بِالْقِتَالِ فَكَفُّوا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ سورة النساء آية 77 " .

عبداللہ بن عباس روایت:

عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے کچھ دوست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب آپ مکہ میں تشریف فرما تھے آئے، اور انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! جب ہم مشرک تھے عزت سے تھے، اور جب سے ایمان لے آئے ذلیل و حقیر ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے عفو و درگزر کا حکم ملا ہوا ہے۔ تو (جب تک لڑائی کا حکم نہ مل جائے) لڑائی نہ کرو“، پھر جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں مدینہ بھیج دیا، اور ہمیں جنگ کا حکم دے دیا۔ تو لوگ (بجائے اس کے کہ خوش ہوتے) باز رہے (ہچکچائے، ڈرےتب اللہ تعالیٰ نے آیت: «ألم تر إلى الذين قيل لهم كفوا أيديكم وأقيموا الصلاة» ”کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں حکم کیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو، اور نمازیں پڑھتے رہو، اور زکاۃ ادا کرتے رہو۔ پھر جب انہیں جہاد کا حکم دیا گیا تو اسی وقت ان کی ایک جماعت لوگوں سے اس قدر ڈرنے لگی جیسے اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ اور کہنے لگے: اے ہمارے رب! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا؟ کیوں ہمیں تھوڑی سی زندگی اور نہ جینے دی؟ آپ کہہ دیجئیے کہ دنیا کی سود مندی تو بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے تو آخرت ہی بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ستم روا نہ رکھا جائے گا (النساء: ۷۷) اخیر تک نازل فرمائی۔

سنن نسائی حدیث ۳۰۸۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ وہ مکہ میں نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ جب ہم مشرک تھے تو عزت میں تھے، ایمان لانے کے بعد کمزور سمجھ لیے گئے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مجھے عفو کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا لڑائی نہ کرو۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مدینہ منتقل کیا اور قتال کا حکم آیا تو کچھ لوگ رکنے لگے۔ اس پر سورۃ النساء کی آیت 77 نازل ہوئی، جس میں پہلے ہاتھ روکنے، نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کا ذکر ہے، پھر قتال کے حکم پر بعض لوگوں کے ڈرنے کا بیان ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ حکم وقت کے ساتھ اللہ کے حکم کے مطابق آتا ہے، اپنی جلدی سے نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مکہ کے دور میں عفو اور ہاتھ روکنے کا حکم بیان ہوا۔
  • مدینہ کے بعد قتال کا حکم آنے کا ذکر ہے۔
  • نماز اور زکاۃ کا حکم قتال سے پہلے بھی اہم طور پر بیان ہوا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں