سنن نسائی حدیث ۳۰۹۸ - مال، ہاتھ اور زبان سے جہاد
مال، ہاتھ اور زبان سے جہاد کی حدیث
سنن نسائی : ۳۰۹۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۹۸
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ , قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ ، وَأَيْدِيكُمْ ، وَأَلْسِنَتِكُمْ " .
انس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرکین سے جہاد کرو اپنے مالوں، اپنے ہاتھوں، اور اپنی زبانوں کے ذریعہ“۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ نبی صلى الله عليه وسلم کا مختصر فرمان نقل کرتے ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مشرکین سے اپنے مالوں، اپنے ہاتھوں اور اپنی زبانوں کے ذریعے جہاد کرو۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، اس لیے اس کی وضاحت بھی اسی حد تک رہنی چاہیے جو متن میں موجود ہے۔ یہاں جہاد کو صرف ایک شکل تک محدود بیان نہیں کیا گیا، بلکہ مال، ہاتھ اور زبان تین چیزوں کا ذکر آیا ہے۔ مال سے مدد، ہاتھ سے عملی حصہ، اور زبان سے بات یا بیان کا پہلو سمجھ آتا ہے، مگر تفصیل حدیث کے متن میں نہیں دی گئی۔ اس لیے اصل سبق یہ ہے کہ دین کے حکم میں آدمی اپنی استطاعت کے مطابق حصہ لیتا ہے، اور ہر صورت شریعت کے دائرے میں رہتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں جہاد کے لیے مال، ہاتھ اور زبان تین ذرائع کا ذکر ہے۔
- ہر شخص کا حصہ اس کی استطاعت اور موقع کے مطابق ہو سکتا ہے۔
- حدیث کے مختصر الفاظ کو اسی کے دائرے میں سمجھنا چاہیے۔
