سنن نسائی حدیث ۳۰۹۷ - کلمہ اور حفاظت
لا الہ الا اللہ کہنے والے کی جان و مال
سنن نسائی : ۳۰۹۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۹۷
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ . ح وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ ، وَمَالَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم ملا ہے کہ جب تک لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں میں ان سے لڑوں تو جس نے اسے کہہ لیا (قبول کر لیا) تو اس نے مجھ سے اپنی جان و مال محفوظ کر لیا۔ اب ان پر صرف اسی وقت ہاتھ ڈالا جا سکے گا جب اس کا حق (وقت و نوبت) آ جائے ۱؎۔ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کرے گا ۲؎۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۹۷ کا خلاصہ
یہ حدیث کلمہ توحید کے ظاہر حکم کو بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ لا إله إلا اللہ کے قائل ہو جائیں۔ پھر فرمایا کہ جس نے یہ کلمہ کہہ لیا، اس نے مجھ سے اپنی جان اور مال محفوظ کر لیا، مگر اس کے حق کے ساتھ، اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کرے گا۔ اس روایت میں توحید، جان و مال کی حفاظت اور اللہ کے حساب کا ذکر ایک ساتھ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ظاہری طور پر کلمہ کا اقرار بہت بڑا معاملہ ہے، مگر حقوق اور حساب کا پہلو بھی باقی رہتا ہے۔ حدیث ہمیں الفاظ کے ساتھ ذمہ داری کا احساس بھی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کلمہ توحید جان و مال کی حفاظت سے جوڑا گیا ہے۔
- حق کے معاملے کو حدیث نے الگ رکھا ہے۔
- انسان کے باطن اور آخری حساب کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔
