سنن نسائی حدیث ۳۱۰۰ - اللہ کے راستے میں قربانی کا شوق
اللہ کے راستے میں نبی صلى الله عليه وسلم کی شدید رغبت
سنن نسائی : ۳۱۰۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۰۰
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ابْنِ عُفَيْرٍ ، عَنْ اللَّيْثِ ، عَنْ ابْنِ مُسَافِرٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي ، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَفنِّي ، أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا ، ثُمَّ أُقْتَلُ ، ثُمَّ أُحْيَا ، ثُمَّ أُقْتَلُ ، ثُمَّ أُحْيَا ، ثُمَّ أُقْتَلُ " .
ابوہریرہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر بہت سے مسلمانوں کو مجھ سے پیچھے رہنا ناگوار نہ ہوتا اور میں ایسی چیز نہ پاتا جس پر انہیں سوار کر کے لے جاتا تو کسی ایسے فوجی دستے سے جو اللہ عزوجل کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا ہو پیچھے نہ رہتا، (لیکن چونکہ مجبوری ہے اس لیے ایسے مجبور کے لیے فوجی دستے کے ساتھ نہ جانے کی رخصت ہے) اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اللہ کے راستے میں نکلنے کی اپنی شدید رغبت بیان فرمائی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے قسم کھا کر فرمایا کہ اگر بہت سے مومنوں کو آپ سے پیچھے رہنا ناگوار نہ ہوتا، اور آپ کے پاس انہیں سوار کرنے کا سامان ہوتا، تو آپ اللہ کے راستے میں نکلنے والے کسی فوجی دستے سے پیچھے نہ رہتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نہ نکلنا کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ سامان نہ ہونے کی وجہ سے تھا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ آپ کو پسند ہے کہ اللہ کے راستے میں قتل کیے جائیں، پھر زندہ کیے جائیں، پھر قتل کیے جائیں، اور یہ بات کئی بار فرمائی۔ حدیث میں شوق، قربانی اور امت کے کمزور لوگوں کا خیال تینوں باتیں موجود ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم اللہ کے راستے میں نکلنے کی بڑی رغبت رکھتے تھے۔
- آپ صلى الله عليه وسلم کمزور مسلمانوں کے دل کا بھی خیال فرماتے تھے۔
- حدیث میں اللہ کے راستے میں قربانی کی شدید تمنا بیان ہوئی ہے۔
