سنن نسائی حدیث ۳۱۰۶ - ماں کی خدمت اور جنت
جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے
سنن نسائی : ۳۱۰۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۰۶
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ ، أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ ، فَقَالَ : " هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَالْزَمْهَا ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا " .
معاویہ بن جاہمہ سلمی روایت:
جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور آپ کے پاس آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سے) پوچھا: کیا تمہاری ماں موجود ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”انہیں کی خدمت میں لگے رہو، کیونکہ جنت ان کے دونوں قدموں کے نیچے ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں اور مشورہ لینے آیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہاری ماں موجود ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے ساتھ لگے رہو، کیونکہ جنت ان کے دونوں قدموں کے نیچے ہے۔ یہ حدیث ماں کی خدمت کی بڑی فضیلت بتاتی ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ نیکی صرف باہر کے بڑے کاموں میں نہیں، گھر میں ماں کی خدمت بھی بندے کے لیے بہت عظیم عمل ہو سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ماں کی خدمت کو معمولی کام نہیں سمجھنا چاہیے۔
- اہم دینی کام کا ارادہ ہو تو گھر کی ذمہ داری بھی دیکھی جائے۔
- مشورہ لینے کی سنت اس حدیث میں واضح ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کے حق کو بہت بلند بتایا۔
