سنن نسائی حدیث ۳۱۴ - مٹی میں لوٹنے کے بجائے تیمم

مٹی میں لوٹنے کے بجائے تیمم کافی ہے

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۴

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ خُفَافٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قال : أَجْنَبْتُ وَأَنَا فِي الْإِبِلِ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً ، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ تَمَعُّكَ الدَّابَّةِ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا كَانَ يَجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ التَّيَمُّمُ " .

عمار بن یاسر روایت:

میں اونٹ چرا رہا تھا کہ میں جنبی ہو گیا، اور مجھے پانی نہیں ملا، تو میں نے جانور کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے بس تیمم ہی کافی تھا“۔

سنن نسائی حدیث ۳۱۴ کا خلاصہ

اس روایت میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اونٹ چرا رہے تھے، انہیں جنابت ہو گئی، اور پانی نہ ملا۔ انہوں نے جانور کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اپنا واقعہ بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لیے اس سے تیمم ہی کافی تھا۔ یہ حدیث بہت آسان انداز میں بتاتی ہے کہ پانی نہ ملنے پر غیر ضروری سختی یا اندازہ لگانے کے بجائے وہی طریقہ اختیار کیا جائے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا۔ اس کا اصل موضوع تیمم، جنابت، اور پانی نہ ملنے کی حالت ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پانی نہ ملنے پر مٹی میں لوٹنے کی ضرورت نہیں بتائی گئی۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کو کافی قرار دیا۔
  • دینی عمل میں درست طریقہ سیکھنا ضروری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں