سنن نسائی حدیث ۳۱۴۲ - اخلاص کے بغیر عمل قبول نہیں
اخلاص نیت: عمل صرف اللہ کے لیے ہو
سنن نسائی : ۳۱۴۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۴۲
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ هِلَالٍ الْحِمْصِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّكْرَ مَالَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا شَيْءَ لَهُ " , فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا شَيْءَ لَهُ " ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا ، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ " .
ابوامامہ باہلی روایت:
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: آپ ایک ایسے شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو جہاد کرتا ہے، اور جہاد کی اجرت و مزدوری چاہتا ہے، اور شہرت و ناموری کا خواہشمند ہے، اسے کیا ملے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے کچھ نہیں ہے“۔ اس نے اپنی بات تین مرتبہ دہرائی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے یہی فرماتے رہے کہ اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو، اور اس سے اللہ کی رضا مقصود و مطلوب ہو“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل پیغام اخلاص نیت ہے۔ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی جہاد کرے، اجر بھی چاہے اور لوگوں میں نام بھی چاہے، تو اسے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا کہ اس کے لیے کچھ نہیں۔ پھر آپ نے صاف بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ وہی عمل قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو اور جس سے اللہ کی رضا مقصود ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف عمل کا بڑا ہونا کافی نہیں، نیت کا صاف ہونا بھی ضروری ہے۔ جہاد جیسا عظیم عمل بھی اگر شہرت اور ناموری کے لیے ہو تو قبولیت کا معاملہ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اس لیے ہر نیک کام سے پہلے دل کو دیکھنا چاہیے کہ میں یہ اللہ کے لیے کر رہا ہوں یا لوگوں کے لیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیک عمل کی قبولیت کے لیے اخلاص ضروری ہے۔
- شہرت اور ناموری کی خواہش عمل کے اجر کو ضائع کر سکتی ہے۔
- اللہ کی رضا ہی نیک عمل کا اصل مقصد ہونا چاہیے۔
- بڑا عمل بھی غلط نیت کے ساتھ قبول نہیں ہوتا۔
