سنن نسائی حدیث ۳۱۴۱ - جہاد میں نیت کے مطابق حصہ
جہاد میں بھی نیت ہی اصل معیار ہے
سنن نسائی : ۳۱۴۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۴۱
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ غَزَا وَهُوَ لَا يُرِيدُ إِلَّا عِقَالًا فَلَهُ ، مَا نَوَى " .
عبادہ بن صامت روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جہاد کیا اور اس نے (مال غنیمت میں) صرف عقال (یعنی ایک معمولی چیز) حاصل کرنے کا ارادہ کیا، تو اسے وہی چیز ملے گی جس کا اس نے ارادہ کیا“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۴۱ کا خلاصہ
یہ روایت نیت کے اسی مضمون کو دوسرے لفظوں میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جہاد کیا اور اس کا ارادہ صرف عقال یعنی ایک معمولی رسی حاصل کرنے کا تھا، تو اسے وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ اس حدیث میں بہت بڑا سبق ہے کہ اعمال صرف ظاہر سے نہیں دیکھے جاتے۔ آدمی باہر سے بڑا عمل کر رہا ہو، مگر دل میں مقصد بہت چھوٹا ہو، تو اس کا معاملہ نیت کے مطابق ہو سکتا ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ کا اصل مطلب اللہ کے لیے ہونا ہے، نہ کہ مال، شہرت یا معمولی فائدہ۔ اسی لیے خلوص نیت کی حدیثیں مسلمان کو بار بار اپنے دل کی اصلاح کی طرف بلاتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیت عمل کے رخ کو بدل سکتی ہے۔
- معمولی فائدے کی نیت عمل کو اسی حد تک محدود کر سکتی ہے۔
- جہاد فی سبیل اللہ میں مقصد اللہ کی رضا ہونا چاہیے۔
- دل کی اصلاح ظاہری عمل جتنی ہی ضروری ہے۔
