سنن نسائی حدیث ۳۱۳۸ - اللہ کا کلمہ بلند کرنے کی نیت
اللہ کے راستے کا معیار: اللہ کا کلمہ بلند کرنا
سنن نسائی : ۳۱۳۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۳۸
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ أَخْبَرَهُمْ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ ، وَيُقَاتِلُ لِيَغْنَمَ ، وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ ، فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
ایک اعرابی (دیہاتی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آدمی لڑتا ہے تاکہ اس کا ذکر اور چرچا ہو، لڑتا ہے تاکہ مال غنیمت حاصل کرے، لڑتا ہے تاکہ اللہ کے راستے میں لڑنے والوں میں اس کا مقام و مرتبہ جانا پہچانا جائے تو کس لڑنے والے کو اللہ کے راستے کا مجاہد کہیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے کا مجاہد اسے کہیں گے جو اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے لڑے“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۳۸ کا خلاصہ
یہ حدیث نیت کے بارے میں بہت صاف فیصلہ دیتی ہے۔ ایک اعرابی نے پوچھا کہ کوئی شخص شہرت کے لیے لڑتا ہے، کوئی مال غنیمت کے لیے، اور کوئی اس لیے کہ اس کا مقام پہچانا جائے؛ ان میں سے اللہ کے راستے میں کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لیے لڑے، وہی اللہ کے راستے میں ہے۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ صرف لڑنا کافی نہیں، مقصد درست ہونا چاہیے۔ شہرت، مال، یا لوگوں میں مقام بنانا جہاد فی سبیل اللہ کا معیار نہیں۔ معیار اللہ کا کلمہ بلند کرنا ہے۔ اسی لیے یہ حدیث خلوص نیت، ریا سے بچنے، اور عمل کے مقصد کو درست رکھنے پر بہت گہرا اثر ڈالتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے راستے کا معیار اللہ کے کلمے کو بلند کرنا ہے۔
- شہرت، مال یا مقام کے لیے لڑنا اس معیار میں نہیں آتا۔
- عمل کی حقیقت نیت سے پہچانی جاتی ہے۔
- بڑا عمل بھی غلط مقصد سے اپنا رنگ کھو سکتا ہے۔
