سنن نسائی حدیث ۳۱۴۰ - عقال کی نیت اور عمل کا بدلہ

عمل کا اصل وزن نیت سے ہے

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۴۰

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ جَدِّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَمْ يَنْوِ إِلَّا عِقَالًا ، فَلَهُ مَا نَوَى " .

عبادہ بن صامت روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا، اور کسی اور چیز کی نہیں صرف ایک عقال (اونٹ کی ٹانگیں باندھنے کی رسی) کی نیت رکھی تو اس کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی“۔

سنن نسائی حدیث ۳۱۴۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں نیت کا مسئلہ بہت مختصر مگر مضبوط انداز میں بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا، لیکن اس کی نیت صرف ایک عقال یعنی اونٹ کی ٹانگ باندھنے کی رسی پانے کی تھی، تو اس کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ عقال ایک معمولی چیز ہے، مگر حدیث میں اسے مثال بنا کر بتایا گیا کہ اگر دل کا مقصد معمولی دنیاوی فائدہ ہو تو عمل کا رخ بھی اسی طرف ہو جاتا ہے۔ اس سے خلوص نیت کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ جہاد جیسا بڑا عمل بھی نیت کے بغیر مطلوب مقام نہیں پاتا۔ اس لیے مسلمان کو اپنے ہر عمل میں دیکھنا چاہیے کہ مقصد اللہ کی رضا ہے یا کوئی چھوٹا دنیاوی فائدہ۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عمل کا بدلہ نیت کے مطابق ہو سکتا ہے۔
  • معمولی دنیاوی نیت بڑے عمل کو محدود کر سکتی ہے۔
  • جہاد میں بھی خلوص ضروری ہے۔
  • بندے کو اپنے دل کے مقصد کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں