سنن نسائی حدیث ۳۱۵۶ - احد میں جنت کی بشارت
جنت کی بشارت سن کر فوری عمل
سنن نسائی : ۳۱۵۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۵۶
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : قَالَ : رَجُلٌ يَوْمَ أُحُدٍ : أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَيْنَ أَنَا ؟ قَالَ : " فِي الْجَنَّةِ ، فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ " .
جابر روایت:
جنگ احد کے دن ایک شخص نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سے کہا: آپ بتائیں اگر میں اللہ کے راستے میں شہید ہو گیا تو میں کہاں ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ہو گے“، (یہ سنتے ہی) اس نے اپنے ہاتھ میں لی ہوئی کھجوریں پھینک دیں، (میدان جنگ میں اتر گیا) جنگ کی اور شہید ہو گیا۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں جنگ احد کا ایک مختصر مگر بہت مؤثر واقعہ بیان ہوا ہے۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میں اللہ کے راستے میں شہید ہو جاؤں تو میں کہاں ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں۔ یہ سنتے ہی اس شخص نے اپنے ہاتھ کی کھجوریں پھینک دیں، میدان میں اترا، لڑا اور شہید ہو گیا۔ اس حدیث میں لمبی گفتگو نہیں، مگر عمل کا جذبہ بہت صاف نظر آتا ہے۔ اس شخص نے جنت کی بشارت سنی تو دنیا کی تھوڑی سی چیز بھی اسے روک نہ سکی۔ یہاں اصل بات اللہ کے راستے میں شہادت، یقین اور فوری اطاعت ہے۔ حدیث ہمیں دکھاتی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم جب حق بات سنتے تھے تو اسے صرف سنتے نہیں تھے، اس پر عمل بھی کرتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے راستے میں شہادت جنت کا سبب بیان ہوئی ہے۔
- صحابی نے جنت کی بشارت سن کر فوراً عمل کیا۔
- دنیا کی معمولی چیز آخرت کے مقصد میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔
- یقین انسان کو عمل پر آمادہ کرتا ہے۔
