سنن نسائی حدیث ۳۱۶۳ - شہید کو قتل کی تکلیف
شہید کو تکلیف کتنی محسوس ہوتی ہے؟
سنن نسائی : ۳۱۶۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۶۳
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الشَّهِيدُ لَا يَجِدُ مَسَّ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمُ الْقَرْصَةَ يُقْرَصُهَا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید کو قتل کے وار سے بس اتنی ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے محسوس ہوتی ہے (پھر اس کے بعد تو آرام ہی آرام ہے)“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں شہید کی حالت کا ایک خاص پہلو بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شہید کو قتل کے وقت بس اتنی تکلیف محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔ اس بیان میں شہادت کی فضیلت کے ساتھ اللہ کی طرف سے آسانی کا ذکر بھی آتا ہے۔ حدیث کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے کے لیے قتل کا درد عام انسانی اندازے جیسا نہیں رہتا۔ یہاں بات صرف اسی تکلیف کی ہے جو قتل کے وار سے متعلق ہے، اس سے آگے کوئی الگ واقعہ یا تفصیل اس روایت میں بیان نہیں ہوئی۔ اس لیے اس حدیث کو شہید کی تکلیف، شہید کا اجر اور شہادت کی فضیلت کے باب میں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شہید کے لیے قتل کی تکلیف بہت ہلکی بتائی گئی ہے۔
- اللہ کی راہ میں قربانی دینے والوں کے لیے خاص آسانی کا ذکر ہے۔
- حدیث شہادت کے مقام کو نرم اور امید بھرے انداز میں سمجھاتی ہے۔
- اس روایت میں صرف قتل کے وار کی تکلیف کا ذکر ہے، دوسری تفصیل نہیں۔
