سنن نسائی حدیث ۳۱۶۵ - پانچ حالتوں میں شہادت
پانچ حالتیں جن میں شہادت کا ذکر آیا
سنن نسائی : ۳۱۶۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۶۵
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ حُجَيْرَةَ يُخْبِرُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَمْسٌ مَنْ قُبِضَ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ فَهُوَ شَهِيدٌ : الْمَقْتُولُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ ، وَالْغَرِقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ ، وَالْمَبْطُونُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ ، وَالْمَطْعُونُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ ، وَالنُّفَسَاءُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ " .
عقبہ بن عامر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ حالتیں ہیں ان میں سے کسی بھی ایک حالت پر مرنے والا شہید ہو گا، اللہ کے راستے (جہاد) میں نکلا اور قتل ہو گیا تو وہ شہید ہے، جہاد میں نکلا اور ڈوب کر مر گیا تو وہ شہید ہے، جہاد میں نکلا اور دست میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو گیا تو وہ بھی شہید ہے، جہاد میں نکلا اور طاعون میں مبتلا ہو کر مر گیا وہ بھی شہید ہے، عورت (شوہر کے ساتھ جہاد میں نکلی ہے) حالت نفاس میں مر گئی تو وہ بھی شہید ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ حالتوں کا ذکر فرمایا جن میں مرنے والے کو شہید کہا گیا ہے۔ متن کے مطابق اللہ کے راستے میں نکل کر قتل ہونا، ڈوب کر مرنا، پیٹ کی بیماری سے مرنا، طاعون سے مرنا، اور حالت نفاس میں عورت کا فوت ہونا شامل ہے۔ یہاں خاص طور پر کئی جگہ اللہ کے راستے میں ہونے کا ذکر آیا ہے، اس لیے بات کو اسی حد میں سمجھنا چاہیے جو روایت میں بیان ہوئی ہے۔ یہ حدیث اقسام شہادت اور شہید کے مقام کے بارے میں اہم ہے۔ اس میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شہادت صرف ایک ہی صورت تک محدود نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ خاص حالتوں کو بھی شہادت کے ساتھ جوڑا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں شہادت کی پانچ حالتوں کا ذکر آیا ہے۔
- اللہ کے راستے میں نکلنے والے کے لیے مختلف صورتوں میں شہادت کا اجر بیان ہوا ہے۔
- طاعون، ڈوبنا اور پیٹ کی بیماری اس روایت میں خاص طور پر آئے ہیں۔
- حالت نفاس میں فوت ہونے والی عورت کا بھی اس متن میں ذکر ہے۔
