سنن نسائی حدیث ۳۱۶۷ - قاتل اور مقتول دونوں جنت میں
دو آدمی جن پر اللہ تعجب فرماتا ہے
سنن نسائی : ۳۱۶۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۶۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْجَبُ مِنْ رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى ، لَيَضْحَكُ مِنْ رَجُلَيْنِ ، يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ثُمَّ يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ دو آدمیوں پر تعجب کرتا ہے کہ ایک ان میں کا ساتھی کو قتل کرتا ہے“، اور دوسری بار آپ نے یوں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے جن میں کا ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے، پھر بھی دونوں جنت میں داخل ہوئے“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک عجیب مگر واضح بات بیان ہوئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دو آدمیوں پر تعجب فرماتا ہے، یا دوسری روایت کے لفظ کے مطابق دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے، جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے، پھر دونوں جنت میں داخل ہوتے ہیں۔ اس روایت میں تفصیل مختصر ہے، اس لیے اس کو اسی حد تک بیان کرنا چاہیے۔ اگلی متعلقہ روایت میں قاتل کی توبہ اور پھر اس کے اللہ کی راہ میں شہید ہونے کی وضاحت آتی ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع اللہ کی رحمت، توبہ اور جنت میں داخلے کا معاملہ ہے۔ یہاں کسی کو ظلم یا قتل کی اجازت نہیں دی گئی، بلکہ ایک خاص دینی انجام بیان ہوا ہے جس کی تفصیل دوسری روایت میں آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں دو آدمیوں کے عجیب انجام کا ذکر ہے۔
- اللہ کی رحمت اور آخری انجام کا معاملہ بندوں کے اندازے سے بڑا ہے۔
- مختصر روایت کو متعلقہ تفصیل کے ساتھ سمجھنا بہتر ہے۔
- اس حدیث سے قتل کی اجازت نہیں نکلتی، بلکہ خاص واقعہ نما انجام بیان ہوا ہے۔
