سنن نسائی حدیث ۳۱۷ - پانی نہ ملنے پر تیمم کی رہنمائی
پانی نہ ملے تو تیمم کیسے کیا جائے
سنن نسائی : ۳۱۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، قال : كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، رُبَّمَا نَمْكُثُ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ وَلَا نَجِدُ الْمَاءَ فَقَالَ عُمَرُ : أَمَّا أَنَا ، فَإِذَا لَمْ أَجِدِ الْمَاءَ لَمْ أَكُنْ لِأُصَلِّيَ حَتَّى أَجِدَ الْمَاءَ ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ : أَتَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حَيْثُ كُنْتَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا وَنَحْنُ نَرْعَى الْإِبِلَ ، فَتَعْلَمُ أَنَّا أَجْنَبْنَا ؟ قال : نَعَمْ ، أَمَّا أَنَا فَتَمَرَّغْتُ فِي التُّرَابِ ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَضَحِكَ ، فَقَالَ : " إِنْ كَانَ الصَّعِيدُ لَكَافِيكَ ، وَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا ، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَبَعْضَ ذِرَاعَيْهِ " . فَقَالَ : اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنْ شِئْتَ لَمْ أَذْكُرْهُ ، قَالَ : وَلَكِنْ نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ .
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ روایت:
ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: امیر المؤمنین! بسا اوقات ہمیں ایک ایک دو دو مہینہ بغیر پانی کے رہنا پڑ جاتا ہے، (تو ہم کیا کریں؟) تو آپ نے کہا: رہا میں تو میں جب تک پانی نہ پا لوں نماز نہیں پڑھ سکتا، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد ہے؟ جب آپ اور ہم فلاں اور فلاں جگہ اونٹ چرا رہے تھے، تو آپ کو معلوم ہے کہ ہم جنبی ہو گئے تھے، کہنے لگے: ہاں، تو رہا میں تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (اور ہم نے اسے آپ سے بیان کیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنس کر فرمایا: ”تمہارے لیے مٹی سے اس طرح کر لینا کافی تھا“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری، پھر اپنے چہرہ کا اور اپنے دونوں بازووں کے کچھ حصہ کا مسح کیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمار! اللہ سے ڈرو، تو انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو میں اسے نہ بیان کروں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ جو تم کہہ رہے ہو ہم تم کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کبھی ایک دو مہینے پانی نہیں ملتا، تو کیا کیا جائے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا جواب دیا۔ پھر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے وہ واقعہ یاد دلایا جب وہ جنبی ہوئے اور پانی نہ ملا۔ عمار رضی اللہ عنہ مٹی میں لوٹ پوٹ ہوئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنس کر فرمایا کہ مٹی تمہارے لیے کافی تھی، پھر دونوں ہتھیلیاں زمین پر ماریں، پھونک ماری، اور چہرے و بازو کے کچھ حصے پر مسح کیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع تیمم کی آسانی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پانی نہ ملنے پر تیمم کا ذکر آیا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی میں لوٹنے کے بجائے آسان طریقہ بتایا۔
- عمار رضی اللہ عنہ نے واقعہ یاد دلا کر مسئلے کی وضاحت کی۔
