سنن نسائی حدیث ۳۱۷۵ - غزوہ ہند کی پیش گوئی
غزوہ ہند اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تمنا
سنن نسائی : ۳۱۷۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۷۵
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ سَيَّارٍ . ح قَالَ : وَأَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ جَبْرِ بْنِ عَبِيدَةَ ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : " وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، غَزْوَةَ الْهِنْدِ ، فَإِنْ أَدْرَكْتُهَا أُنْفِقْ فِيهَا نَفْسِي وَمَالِي ، فَإِنْ أُقْتَلْ كُنْتُ مِنْ أَفْضَلِ الشُّهَدَاءِ ، وَإِنْ أَرْجِعْ فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم (مسلمانوں) سے ہندوستان پر لشکر کشی کا وعدہ فرمایا، یعنی پیش گوئی کی، تو اگر ہند پر لشکر کشی میری زندگی میں ہوئی تو میں جان و مال کے ساتھ اس میں شریک ہوں گا۔ اگر میں قتل کر دیا گیا تو بہترین شہداء میں سے ہوں گا، اور اگر زندہ واپس آ گیا تو میں (جہنم سے) نجات یافتہ ابوہریرہ کہلاؤں گا۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے غزوہ ہند کا وعدہ فرمایا، یعنی اس کی پیش گوئی کی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر یہ لشکر کشی میری زندگی میں ہوئی تو میں اپنی جان اور مال کے ساتھ اس میں شریک ہوں گا۔ پھر انہوں نے دو صورتیں بیان کیں: اگر قتل کر دیا گیا تو بہترین شہداء میں سے ہوں گا، اور اگر زندہ واپس آیا تو نجات یافتہ ابوہریرہ کہلاؤں گا۔ اس روایت کا مرکزی موضوع غزوہ ہند، جان و مال کی قربانی اور شہادت کی امید ہے۔ متن میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اپنی تمنا اور عزم بیان ہوا ہے، اس لیے اس سے زائد تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جان و مال سے شرکت کی خواہش ظاہر کی۔
- حدیث میں غزوہ ہند کی پیش گوئی کا ذکر ہے۔
- شہادت کی امید اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا جذبہ بیان ہوا ہے۔
- روایت میں زندہ واپسی کی صورت میں نجات کی امید کا ذکر آتا ہے۔
