سنن نسائی حدیث ۳۱۷۶ - غزوہ ہند میں جان و مال
غزوہ ہند کی حدیث اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا عزم
سنن نسائی : ۳۱۷۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۷۶
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ ، عَنْ جَبْرِ بْنِ عَبِيدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْهِنْدِ ، فَإِنْ أَدْرَكْتُهَا أُنْفِقْ فِيهَا نَفْسِي وَمَالِي ، وَإِنْ قُتِلْتُ كُنْتُ أَفْضَلَ الشُّهَدَاءِ ، وَإِنْ رَجَعْتُ ، فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ہندوستان کے غزوے کا وعدہ فرمایا یعنی پیش گوئی کی تو میں نے اگر اسے پا لیا، یعنی میری زندگی ہی میں ہند میں جہاد کا وقت آ گیا تو میں اپنی جان و مال سب اس میں لگا دوں گا۔ اگر میں اس میں شہید ہو گیا تو برتر شہداء میں شامل ہوں گا اور اگر (شہادت نصیب نہ ہوئی) زندہ بچ کر واپس آ گیا تو ابوہریرہ «محرر» ہوں گا، یعنی وہ ابوہریرہ ہوں گا جو جہنم کے عذاب سے آزاد کر دیا گیا ہو گا۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۷۶ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے قریب معنی رکھتی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ہندوستان کے غزوے کا وعدہ فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں نے اس وقت کو پا لیا تو اپنی جان اور مال سب اس میں لگا دوں گا۔ اگر شہید ہو گیا تو برتر شہداء میں شامل ہوں گا، اور اگر زندہ واپس آیا تو ابوہریرہ محرر ہوں گا، یعنی جہنم کے عذاب سے آزاد کیا گیا۔ اس حدیث میں غزوہ ہند، جان و مال کی قربانی اور شہادت کی امید کا ذکر ہے۔ بات کو اسی روایت کے الفاظ تک رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا عزم اور ان کی امید بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے غزوہ ہند کے لیے جان و مال لگانے کی بات کہی۔
- شہادت کی صورت میں بلند مقام کی امید ظاہر کی گئی۔
- زندہ واپسی کی صورت میں جہنم سے آزادی کی امید بیان ہوئی۔
- یہ روایت غزوہ ہند کی پیش گوئی سے متعلق ہے۔
