سنن نسائی حدیث ۳۱۸۰ - کمزوروں کی دعا سے مدد

کمزوروں کی دعا، نماز اور اخلاص سے مدد

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۸۰

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ ظَنَّ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضَعِيفِهَا ، بِدَعْوَتِهِمْ ، وَصَلَاتِهِمْ ، وَإِخْلَاصِهِمْ " .

سعد بن ابی وقاص روایت:

´سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` انہیں خیال ہوا کہ انہیں اپنے سوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر صحابہ پر فضیلت و برتری حاصل ہے ۱؎، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، صلاۃ اور اخلاص کی بدولت فرماتا ہے“ ۲؎۔

سنن نسائی حدیث ۳۱۸۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ انہیں خیال ہوا کہ انہیں اپنے سے کم درجے کے صحابہ پر فضیلت حاصل ہے۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعا، ان کی نماز اور ان کے اخلاص کی بدولت فرماتا ہے۔ یہ حدیث دل کو جھنجھوڑنے والی ہے، کیونکہ اس میں ظاہری طاقت، نام یا مقام کے بجائے کمزور لوگوں کی دعا اور اخلاص کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک کسی بندے کی قدر صرف دنیاوی طاقت سے نہیں ہوتی۔ کمزوروں کی دعا، صلاۃ اور اخلاص امت کے لیے مدد کا سبب بن سکتے ہیں، جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کمزور لوگوں کو کم تر سمجھنا درست رویہ نہیں۔
  • اللہ کی مدد کمزوروں کی دعا، نماز اور اخلاص کے سبب آ سکتی ہے۔
  • ظاہری طاقت ہمیشہ اصل فضیلت کی علامت نہیں ہوتی۔
  • اخلاص اور عبادت اللہ کے نزدیک بڑا مقام رکھتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں