سنن نسائی حدیث ۳۱۸۱ - کمزوروں کے سبب رزق و مدد
کمزور لوگوں کی وجہ سے رزق اور مدد
سنن نسائی : ۳۱۸۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۸۱
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " ابْغُونِي الضَّعِيفَ ، فَإِنَّكُمْ إِنَّمَا تُرْزَقُونَ ، وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ " .
ابو الدرداء روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میرے لیے کمزور کو ڈھونڈو، کیونکہ تمہیں تمہارے کمزوروں کی دعاؤں کی وجہ سے روزی ملتی ہے، اور تمہاری مدد کی جاتی ہے“ ۱؎۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے لیے کمزور کو ڈھونڈو، کیونکہ تمہیں تمہارے کمزوروں کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ یہ روایت بہت سادہ مگر بہت اہم پیغام دیتی ہے۔ معاشرے میں کمزور، بے سہارا یا کم حیثیت سمجھے جانے والے لوگوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ حدیث کے الفاظ کے مطابق ان کے سبب رزق اور مدد کا ذکر آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں کمزور بندوں کی قدر ہے، اور ان کے ساتھ تعلق، خیال اور عزت کا معاملہ ایمان والے رویے کا حصہ ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کمزور لوگوں کو تلاش کرنا اور ان کا خیال رکھنا چاہیے۔
- حدیث میں رزق اور مدد کو کمزوروں کے سبب سے جوڑا گیا ہے۔
- ظاہری کمزوری اللہ کے نزدیک بے قدری کی علامت نہیں۔
- اہل ایمان کو کمزوروں کے ساتھ عزت اور نرمی سے پیش آنا چاہیے۔
