سنن نسائی حدیث ۳۲۰۵ - اختیار طلاق نہیں تھا
رسول اللہ کو چننا طلاق نہیں تھا
سنن نسائی : ۳۲۰۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۲۰۵
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَرْنَاهُ ، فَلَمْ يَكُنْ طَلَاقًا " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (انتخاب کا) اختیار دیا، تو ہم سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چن لیا تو یہ (اختیار) طلاق نہیں تھا۔
سنن نسائی حدیث ۳۲۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اختیار دینے کے واقعے کی وضاحت کی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں انتخاب کا اختیار دیا، پھر ہم سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چن لیا، تو یہ طلاق نہیں تھا۔ یہ الفاظ بہت صاف ہیں۔ اس روایت کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ صرف اختیار دینا اس وقت طلاق نہ بنا جب ازواج مطہرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کو پسند کیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دینی مسئلے میں راوی کے صاف الفاظ کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہاں اصل بات دنیاوی اختیار کے مقابلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کا فیصلہ ہے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے حکم کو واضح کر دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے واضح کیا کہ یہ اختیار طلاق نہیں تھا۔
- ازواج مطہرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چنا۔
- دینی مسئلے میں روایت کے صاف الفاظ پر توجہ ضروری ہے۔
- اختیار دینے کے واقعے کو اسی بیان کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
