سنن نسائی حدیث ۳۲۰۴ - اختیار دینا کیا طلاق تھا؟

اختیار دینا اور طلاق کا سوال

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۲۰۴

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : " قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ أَوْ كَانَ طَلَاقًا " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا۔ کیا وہ طلاق تھا؟ ۱؎۔

سنن نسائی حدیث ۳۲۰۴ کا خلاصہ

اس مختصر روایت میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک اہم بات نقل ہوئی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا۔ روایت کے الفاظ میں یہ سوال بھی آتا ہے کہ کیا یہ طلاق تھا؟ اس حدیث کا اصل موضوع ازواج مطہرات کو دیا گیا اختیار ہے، یعنی انہیں ایک فیصلے کا موقع دیا گیا۔ چونکہ روایت مختصر ہے، اس لیے اس میں تفصیل بیان نہیں کی گئی، مگر اسی سلسلے کی اگلی روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا صاف فرماتی ہیں کہ جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چن لیا تو وہ طلاق نہیں تھی۔ اس لیے اس حدیث کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے کہ یہاں اختیار دینے کے واقعے اور اس کے حکم کے سوال کا ذکر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی مسائل میں الفاظ اور واقعے کی پوری ترتیب سمجھنا ضروری ہے۔
  • مختصر روایت کو متعلقہ روایات کے ساتھ سمجھنا بہتر ہوتا ہے۔
  • عائشہ رضی اللہ عنہا نے اختیار دینے کے واقعے کو نقل کیا۔
  • طلاق جیسے معاملے میں جلدی نتیجہ نکالنے سے بچنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں