سنن نسائی حدیث ۳۲۰۷ - نکاح نبوی کا خاص حکم
رسول اللہ کے لیے نکاح کی اجازت
سنن نسائی : ۳۲۰۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۲۰۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ وَهُوَ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحَلَّ اللَّهُ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ مِنَ النِّسَاءِ مَا شَاءَ " .
عائشہ روایت:
آپ کی وفات نہ ہوئی جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال نہ کر دیا کہ آپ جتنی عورتوں سے چاہیں نکاح کر لیں ۱؎۔
سنن نسائی حدیث ۳۲۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ایک خاص بات بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے یہ حلال کر دیا کہ آپ عورتوں میں سے جس سے چاہیں نکاح کر لیں۔ یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص معاملے سے متعلق ہے۔ اس میں عام لوگوں کے لیے کوئی الگ تفصیلی حکم بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے نکاح نبوی کے خاص باب میں سمجھنا چاہیے۔ اس کا تعلق اسی سلسلے کی پچھلی روایت سے بھی ہے جس میں کہا گیا کہ آپ کی وفات سے پہلے عورتیں آپ کے لیے حلال تھیں۔ حدیث کا مقصد صرف اتنی بات بیان کرنا ہے کہ یہ حلت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی، اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے صاف الفاظ میں نقل کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص معاملے سے متعلق ہے۔
- حلت کا ذکر اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کے ساتھ آیا ہے۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس مسئلے کو واضح انداز میں بیان کیا۔
- خاص احکام کو عام احکام پر بغیر دلیل لاگو نہیں کرنا چاہیے۔
