سنن نسائی حدیث ۳۲۲۰ - تین لوگوں کے لیے اللہ کی مدد
اللہ کی مدد کے حق دار تین لوگ
سنن نسائی : ۳۲۲۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۲۲۰
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنُهُمْ : الْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ ، وَالْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین (طرح کے لوگ) ہیں جن کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم و ضروری کر لیا ہے: (ایک) وہ مکاتب ۱؎ جو مقررہ رقم ادا کر کے آزادی حاصل کر لینے کے لیے کوشاں ہو۔ (دوسرا) ایسا نکاح کرنے والا جو شادی کر کے عفت و پاکدامنی کی زندگی بسر کرنا چاہتا ہو (تیسرا) وہ مجاہد جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے نکلا ہو“۔
سنن نسائی حدیث ۳۲۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طرح کے لوگوں کا ذکر فرمایا جن کی مدد اللہ عزوجل پر حق ہے۔ پہلا وہ مکاتب ہے جو مقررہ رقم ادا کر کے آزادی حاصل کرنا چاہتا ہو۔ دوسرا وہ نکاح کرنے والا ہے جو شادی کے ذریعے عفت اور پاکدامنی چاہتا ہو۔ تیسرا وہ مجاہد ہے جو اللہ کی راہ میں نکلا ہو۔ اس حدیث میں خاص طور پر نکاح کا ایک پاک مقصد سامنے آتا ہے: عفت کی نیت۔ یعنی شادی صرف سماجی رسم نہیں، بلکہ اپنے آپ کو پاک رکھنے کا ذریعہ بھی ہے۔ حدیث میں مدد کا وعدہ انہی تین اوصاف کے ساتھ بیان ہوا ہے، اس لیے الفاظ کو اسی دائرے میں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پاکدامنی کی نیت سے نکاح کرنے والے کا ذکر اللہ کی مدد کے ساتھ آیا ہے۔
- مکاتب کی کوشش کو بھی حدیث میں اہم مقام دیا گیا ہے۔
- اللہ کی راہ میں نکلنے والے مجاہد کا ذکر ان تین میں ہے۔
- نکاح میں عفت کی نیت بہت پاک مقصد ہے۔
