سنن نسائی حدیث ۳۲۱۱ - اے نوجوانو نکاح کرو
اے نوجوانو نکاح کرو: حدیث کی رہنمائی
سنن نسائی : ۳۲۱۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۲۱۱
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا مَعْشَرَ الشَّبَاب : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَنْكِحْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَا فَلْيَصُمْ ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ " ,
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم نوجوانوں سے کہا: ”اے نوجوانو! تم میں سے جو بیوی کے نان و نفقہ کا بار اٹھا سکتا ہو، اسے شادی کر لینی چاہیئے، کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اور جو نکاح کی ذمہ داریاں نہ نبھا سکتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے۔ کیونکہ روزہ اس کے لیے شہوت کا توڑ ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۳۲۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کو براہ راست مخاطب فرمایا: اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو بیوی کے نان و نفقہ کا بار اٹھا سکتا ہو، اسے شادی کر لینی چاہیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کی حکمت بیان فرمائی کہ یہ نگاہ کو نیچا رکھنے اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اور جو نکاح کی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتا، اسے روزہ رکھنے کی ہدایت دی گئی، کیونکہ روزہ اس کے لیے شہوت کا توڑ ہے۔ یہ حدیث نوجوانوں کے لیے صاف، متوازن اور عملی نصیحت ہے۔ اس میں نہ خواہش کو کھلا چھوڑا گیا، نہ غیر فطری سختی اختیار کی گئی، بلکہ طاقت کے مطابق پاکیزہ راستہ بتایا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نوجوانوں کو نکاح کی طرف رغبت دلائی گئی ہے۔
- نکاح نگاہ کو نیچا رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
- نکاح شرمگاہ کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔
- نکاح کی طاقت نہ ہو تو روزہ رکھا جائے۔
