سنن نسائی حدیث ۳۲۱۰ - استطاعت ہو تو نکاح کرو
شادی کی طاقت ہو تو نکاح کرو
سنن نسائی : ۳۲۱۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۲۱۰
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ , وَالْأَسْوَدُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : الْأَسْوَدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم (نوجوانوں) سے فرمایا: ”جو شخص بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہوا سے شادی کر لینی چاہیئے اور جو اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے، کیونکہ وہ اس کے لیے توڑ ہے، یعنی روزہ آدمی کی شہوت کو دبا اور کچل دیتا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث میں ”اسود“ راوی کا ذکر نہیں ہے۔
سنن نسائی حدیث ۳۲۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں سے فرمایا کہ تم میں سے جو بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہو وہ شادی کر لے۔ اور جو اس کی طاقت نہ رکھتا ہو، اس کے لیے روزہ ہے، کیونکہ روزہ اس کے لیے توڑ ہے۔ ترجمے میں یہ بھی بیان ہوا کہ روزہ آدمی کی شہوت کو دبا دیتا ہے۔ یہ حدیث نوجوانوں کے لیے بہت عملی رہنمائی دیتی ہے۔ اس میں نکاح کو ذمہ داری کے ساتھ جوڑا گیا ہے، اور جو شخص ابھی نکاح کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا اسے بے راہ چلنے کے بجائے روزہ رکھنے کی نصیحت کی گئی ہے۔ حدیث کا پیغام سادہ ہے: خواہش کو دین کے بتائے ہوئے راستے سے قابو کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح کے لیے ذمہ داری اٹھانے کی طاقت دیکھی جاتی ہے۔
- نوجوانوں کو پاکدامنی کے لیے واضح راستہ بتایا گیا ہے۔
- نکاح کی طاقت نہ ہو تو روزہ رکھنے کی ہدایت ہے۔
- روزہ خواہش کو قابو کرنے میں مدد دیتا ہے۔
