سنن نسائی حدیث ۳۲۱۲ - نوجوانوں کو نکاح کی نصیحت
نوجوانوں کے لیے نکاح کی نصیحت
سنن نسائی : ۳۲۱۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۲۱۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا مَعْشَرَ الشَّبَاب : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ ، فَلْيَتَزَوَّجْ " , وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم نوجوانوں سے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھے اسے شادی کر لینی چاہیئے“، اور (اس سے آگے) اوپر گزری ہوئی حدیث بیان کی۔
سنن نسائی حدیث ۳۲۱۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں سے فرمایا: اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھے، اسے شادی کر لینی چاہیے۔ روایت میں آگے پچھلی حدیث کا مضمون بیان کیا گیا ہے، جس میں نگاہ نیچی رکھنے، شرمگاہ کی حفاظت اور استطاعت نہ ہونے پر روزہ رکھنے کی بات آتی ہے۔ اس روایت کا انداز مختصر ہے، مگر پیغام وہی ہے کہ نکاح کو ذمہ داری کے ساتھ دیکھا جائے۔ صرف خواہش کافی نہیں، بلکہ نان و نفقہ اور گھریلو ذمہ داری کی طاقت بھی اہم ہے۔ اور جب یہ طاقت نہ ہو تو روزہ انسان کے نفس کو قابو کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کو نکاح کی نصیحت فرمائی۔
- شادی کے لیے استطاعت کا لحاظ کیا گیا ہے۔
- نکاح کو ذمہ داری کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
- یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو مختصر طور پر بیان کرتی ہے۔
