سنن نسائی حدیث ۳۲۱۳ - منیٰ میں نکاح کی یاد دہانی
منیٰ میں نکاح والی حدیث کی یاد
سنن نسائی : ۳۲۱۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۲۱۳
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بِمِنًى فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ ، فَقَامَ مَعَهُ يُحَدِّثُهُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَا أُزَوِّجُكَ جَارِيَةً شَابَّةً فَلَعَلَّهَا أَنْ تُذَكِّرَكَ بَعْضَ مَا مَضَى مِنْكَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا مَعْشَرَ الشَّبَاب : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ ، فَلْيَتَزَوَّجْ " .
علقمہ روایت:
میں منی میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہا تھا کہ ان سے عثمان رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہو گئی تو وہ ان سے کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے۔ اور کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا میں آپ کی شادی ایک نوجوان لڑکی سے نہ کرا دوں؟ توقع ہے وہ آپ کو آپ کے ماضی کی بہت سی باتیں یاد دلا دے گی، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ مجھ سے یہ بات آج کہہ رہے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات ہم سے بہت پہلے اس طرح کہہ چکے ہیں: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو بیوی کے نان و نفقہ ادا کرنے کی طاقت رکھے تو اس کو نکاح کر لینا چاہیئے“۔
سنن نسائی حدیث ۳۲۱۳ کا خلاصہ
اس روایت میں علقمہ بیان کرتے ہیں کہ وہ منیٰ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے بات کی اور ایک نوجوان لڑکی سے شادی کی پیشکش کا ذکر کیا۔ اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ نصیحت یاد دلائی جو آپ نے نوجوانوں سے فرمائی تھی: اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو بیوی کے نان و نفقہ ادا کرنے کی طاقت رکھے، اسے نکاح کر لینا چاہیے۔ اس روایت میں اصل زور اسی بات پر ہے کہ نکاح صرف عمر یا خواہش کا معاملہ نہیں، بلکہ استطاعت اور ذمہ داری کا معاملہ بھی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب میں اپنی رائے کے بجائے نبوی نصیحت کو بنیاد بنایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام اپنے جواب میں رسول اللہ کی حدیث کو بنیاد بناتے تھے۔
- نکاح کے لیے نان و نفقہ کی طاقت کا ذکر کیا گیا ہے۔
- نوجوانوں کو پاکیزہ زندگی کے لیے نکاح کی نصیحت کی گئی۔
- ذاتی معاملے میں بھی دینی رہنمائی کو یاد رکھنا چاہیے۔
