سنن نسائی حدیث ۳۲۱۴ - مجرد رہنے سے ممانعت

مجرد رہنے کی اجازت نہ دی گئی

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۲۱۴

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : " لَقَدْ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ التَّبَتُّلَ وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا " .

سعد بن ابی وقاص روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو مجرد (غیر شادی شدہ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا، اور اگر آپ انہیں اس کی اجازت دیتے تو ہم خصی ہو جاتے۔

سنن نسائی حدیث ۳۲۱۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو مجرد رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا۔ روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ اگر آپ انہیں اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے۔ اس حدیث کا اصل موضوع تبتل، یعنی نکاح کو چھوڑ کر الگ زندگی اختیار کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقے کو قبول نہیں فرمایا۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ دین میں عبادت اور پاکیزگی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان نکاح اور فطری زندگی سے کٹ جائے۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے لیے اس راستے کو رد کیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرد رہنے کے خاص ارادے کو رد فرمایا۔
  • دین میں نکاح کو چھوڑ کر سخت راستہ اختیار کرنا مطلوب نہیں۔
  • صحابہ کرام رسول اللہ کے فیصلے کی پابندی کرتے تھے۔
  • فطری زندگی کو دین سے الگ نہیں سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں