سنن نسائی حدیث ۳۲۱۶ - مجرد زندگی سے نبی کی ممانعت
مجرد رہنے سے ممانعت کی روایت
سنن نسائی : ۳۲۱۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۲۱۶
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : قَتَادَةُ أَثْبَتُ وَأَحْفَظُ مِنْ أَشْعَثَ , وَحَدِيثُ أَشْعَثَ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
سمرہ بن جندب روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرد (غیر شادی شدہ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: قتادہ اشعث سے زیادہ ثقہ اور مضبوط حافظہ والے تھے لیکن اشعث کی حدیث صحت سے زیادہ قریب لگتی ہے واللہ أعلم۔
سنن نسائی حدیث ۳۲۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرد رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا۔ اس روایت میں امام نسائی کا ایک نوٹ بھی آتا ہے کہ قتادہ اشعث سے زیادہ ثقہ اور مضبوط حافظہ والے تھے، لیکن اشعث کی حدیث صحت سے زیادہ قریب لگتی ہے، واللہ اعلم۔ اصل متن کا پیغام وہی ہے جو تبتل کی دوسری روایات میں آیا ہے: نکاح کو چھوڑ کر غیر شادی شدہ رہنے کو عبادت کا خاص راستہ نہیں بنایا گیا۔ حدیث مختصر ہے، اس لیے اس سے زیادہ بات روایت پر ڈالنا درست نہیں۔ یہاں صرف یہی بات واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرز زندگی سے منع فرمایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبتل سے منع فرمایا۔
- روایت میں امام نسائی نے سند کے بارے میں احتیاطی بات بھی نقل کی۔
- دینی بات بیان کرتے وقت روایت کے الفاظ کا لحاظ ضروری ہے۔
- نکاح چھوڑ کر مجرد رہنے کو خاص فضیلت کے طور پر نہیں اپنایا گیا۔
