سنن نسائی حدیث ۳۲۱۵ - تبتل سے منع فرمایا گیا

تبتل یعنی نکاح چھوڑنے سے ممانعت

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۲۱۵

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرد (غیر شادی شدہ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا۔

سنن نسائی حدیث ۳۲۱۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرد رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا۔ روایت کے الفاظ بہت مختصر ہیں، مگر بات صاف ہے کہ تبتل، یعنی نکاح کو چھوڑ کر الگ زندگی اختیار کرنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں فرمایا۔ اس حدیث کو نکاح کے باب میں سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسلام انسان کی فطری ضرورتوں کو نظر انداز نہیں کرتا۔ یہاں کوئی لمبی تفصیل نہیں، اس لیے ہمیں بھی بات کو روایت کے دائرے میں رکھنا چاہیے۔ حدیث کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ دین کا راستہ فطری اور متوازن ہے، اور عبادت کے نام پر نکاح کو چھوڑ دینا وہ طریقہ نہیں جو اس روایت میں قبول کیا گیا ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبتل سے منع فرمایا۔
  • نکاح کو بلا وجہ چھوڑ کر الگ زندگی اختیار کرنا درست راستہ نہیں۔
  • دین میں فطری زندگی کی رعایت رکھی گئی ہے۔
  • مختصر حدیث سے صرف اتنا حکم سمجھنا چاہیے جو اس میں بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں