سنن نسائی حدیث ۳۳۴ - گناہوں سے پاکی کی دعا

گناہوں سے پاکی کی نبوی دعا

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۳۴

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے: «اللہم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس» ”اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولوں سے دھو دے، اور میرے دل کو گناہوں سے اسی طرح صاف کر دے جس طرح تو سفید کپڑے کو میل سے صاف کر دیتا ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۳۳۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولوں سے دھو دے، اور میرے دل کو گناہوں سے اسی طرح صاف کر دے جس طرح تو سفید کپڑے کو میل سے صاف کر دیتا ہے۔ یہ دعا بہت نرم اور دل کو جھنجھوڑنے والی ہے۔ اس میں گناہوں سے پاکی، دل کی صفائی، اور اللہ سے معافی مانگنے کا خوبصورت انداز ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کے الفاظ میں پانی، برف اور اولوں کا ذکر آیا ہے، جو مکمل صفائی کے معنی کو سمجھاتے ہیں۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ بندہ اپنے گناہوں کی معافی اور دل کی پاکیزگی کے لیے اللہ سے دعا کرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گناہوں کی معافی کے لیے اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔
  • دل کی صفائی بھی بندے کی اہم ضرورت ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے گناہوں سے پاکی کے لیے جامع دعا سکھائی۔
  • دعا میں عاجزی اور اپنے رب سے امید کا انداز ہونا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں