سنن نسائی حدیث ۳۳۵ - خطاؤں سے دھلنے کی دعا

گناہوں سے دھلنے کی مختصر دعا

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۳۵

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے: «اللہم اغسلني من خطاياى بالثلج والماء والبرد» ”اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے برف، پانی اور اولوں کے ذریعہ دھو دے“۔

سنن نسائی حدیث ۳۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے برف، پانی اور اولوں کے ذریعے دھو دے۔ یہ دعا مختصر ہے، مگر اس میں بندے کی بڑی ضرورت بیان ہوئی ہے۔ انسان اپنے گناہوں سے پاک ہونا چاہتا ہے، اور نبی صلى الله عليه وسلم نے اس کے لیے اللہ سے دعا کا انداز سکھایا۔ یہاں برف، پانی اور اولوں کا ذکر صفائی کے معنی کو مضبوط کرتا ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع گناہوں سے پاکی کی دعا ہے۔ یہ روایت ہمیں سکھاتی ہے کہ بندہ اللہ سے صرف ظاہری نہیں بلکہ باطنی پاکی بھی مانگے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گناہوں سے پاکی کے لیے اللہ سے دعا مانگنی چاہیے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کی دعائیں مختصر مگر معنی سے بھرپور ہوتی تھیں۔
  • بندہ اپنی خطاؤں کے دھلنے کی امید اللہ سے رکھے۔
  • دعا میں صاف اور عاجز الفاظ استعمال کرنا بہتر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں